کيا چرخ کج رو ، کيا مہر ، کيا ماہ
سب رو ہيں واماندہ راہ
کڑکا سکندر بجلي کي مانند
تجھ کو خبر ہے اے مرگ ناگاہ
نادر نے لوٹي دلي کي دولت
اک ضرب شمشير ، افسانہ کوتاہ
افغان باقي ، کہسار باقي
!الحکم للہ ! الملک للہ
حاجت سے مجبور مردان
کرتي ہے حاجت شيروں کو روباہ
محرم خودي سے جس دم ہوا فقر
!تو بھي شہنشاہ ، ميں بھي شہنشاہ
قوموں کي تقدير وہ مرد درويش
جس نے نہ ڈھونڈي سلطاں کي درگاہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا