ميرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
تيري چٹانوں ميں ہے ميرے اب و جد کي
روز ازل سے ہے تو شاہين و چرغ
لالہ و گل سے تہي ، نغمہ بلبل سے پاک
تيرے خم و پيچ ميں ميري بہشت بريں
خاک تري عنبريں ، آب ترا تاب ناک
باز نہ ہوگا کبھي بندہ کبک و حمام
!حفظ بدن کے ليے روح کو کردوں ہلاک
اے مرے فقر غيور ! فيصلہ تيرا ہے کيا
!خلعت انگريز يا پيرہن چاک چاک
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا