کہا مجاہد ترکي نے مجھ سے بعد نماز
طويل سجدہ ہيں کيوں اس قدر تمھارے امام
وہ سادہ مرد مجاہد ، وہ مومن آزاد
خبر نہ تھي اسے کيا چيز ہے نماز غلام
ہزار کام ہيں مردان حر کو دنيا ميں
انھي کے ذوق عمل سے ہيں امتوں کے نظام
بدن غلام کا سوز عمل سے ہے محروم
کہ ہے مرور غلاموں کے روز و پہ حرام
طويل سجدہ اگر ہيں تو کيا تعجب ہے
ورائے سجدہ غريبوں کو اور کيا ہے کام
نصيب کرے ہند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس ميں ہے ملت کي زندگي کا پيام
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا