اک لرد فرنگي نے کہا اپنے پسر سے
وہ طلب کر کہ تري آنکھ نہ ہو سير
بيچارے کے حق ميں ہے يہي سب سے ظلم
برے پہ اگر فاش کريں قاعدہ شير
سينے ميں رہے راز ملوکانہ تو بہتر
کرتے نہيں محکوم کو تيغوں سے کبھي زير
تعليم کے تيزاب ميں ڈال اس کي خودي کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھير
تاثير ميں اکسير سے بڑھ کر ہے يہ تيزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹي کا ہے اک ڈھير
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا