معلوم کسے ہند کي تقدير کہ اب تک
بيچارہ کسي تاج کا تابندہ نگيں ہے
دہقاں ہے کسي قبر کا اگلا ہوا مردہ
بوسيدہ جس کا ابھي زير زميں ہے
جاں بھي گرو غير ، بدن بھي گرو غير
افسوس کہ باقي نہ مکاں ہے نہ مکيں ہے
يورپ کي غلامي پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے ، يورپ سے نہيں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا