!کيا زمانے سے نرالا ہے مسوليني کا
بے محل بگڑا ہے معصومان يورپ کا
ميں پھٹکتا ہوں تو چھلني کو برا لگتا ہے کيوں
ہيں سبھي تہذيب کے اوزار ! تو چھلني ، ميں چھاج
ميرے سودائے ملوکيت کو ٹھکراتے ہو تم
تم نے کيا توڑے نہيں کمزور قوموں کے زجاج؟
يہ عجائب شعبدے کس کي ملوکيت کے ہيں
راجدھاني ہے ، مگر باقي نہ راجا ہے نہ راج
آل سيزر چوب نے کي آبياري ميں رہے
!اور تم دنيا کے بنجر بھي نہ چھوڑو بے خراج
تم نے لوٹے بے نوا صحرا نشينوں کے خيام
تم نے لوٹي کشت دہقاں ، تم نے لوٹے تخت و تاج
پردہ تہذيب ميں غارت گري ، آدم کشي
کل روا رکھي تھي تم نے ، ميں روا رکھتا ہوں آج
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا