مشرق کے نيستاں ميں ہے محتاج نفس نے
شاعر ! ترے سينے ميں نفس ہے کہ نہيں ہے
تاثير غلامي سے خودي جس کي ہوئي نرم
اچھي نہيں اس قوم کے ميں عجمي لے
شيشے کي صراحي ہو کہ مٹي کا سبو ہو
شمشير کي مانند ہو تيزي ميں تري مے
ايسي کوئي دنيا نہيں افلاک کے نيچے
بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و کے
ہر لحظہ نيا طور ، نئي تجلي
!اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا