کس درجہ يہاں عام ہوئي تخيل
!ہندي بھي فرنگي کا مقلد ، عجمي بھي
مجھ کو تو يہي ہے کہ اس دور کے بہزاد
کھو بيٹھے ہيں مشرق کا سرور ازلي بھي
معلوم ہيں اے مرد ہنر تيرے کمالات
صنعت تجھے آتي ہے پراني بھي ، نئي بھي
فطرت کو دکھايا بھي ہے ، ديکھا بھي ہے تو نے
!آئينہ فطرت ميں دکھا اپني خودي بھي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا