ہے حقيقت يا مري چشم غلط بيں کا فساد
يہ زميں، يہ ، يہ کہسار ، يہ چرخ کبود
کوئي کہتا ہے نہيں ہے ، کوئي کہتاہے کہ ہے
!کيا خبر ، ہے يا نہيں ہے تيري دنيا کا وجود
ميرزا بيدل نے کس خوبي سے کھولي يہ گرہ
!اہل حکمت پر بہت مشکل رہي جس کي کشود
اگر ميداشت وسعت بے نشاں بود ايں چمن ''
''رنگ مے بيروں نشست از بسکہ مينا تنگ بود
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا