شايد تو سمجھتي تھي وطن دور ہے ميرا
اے قاصد افلاک! نہيں ، دور نہيں ہے
ہوتا ہے مگر محنت پرواز سے روشن
يہ نکتہ کہ گردوں سے زميں دور نہيں ہے
مانند صحن گلستاں ميں قدم رکھ
آئے تہ پا گوہر تو نہ ٹوٹے
ہو کوہ و بياباں سے ہم آغوش ، و ليکن
!ہاتھوں سے ترے دامن افلاک نہ چھوٹے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا