آيا کہاں سے نالہ نے ميں سرود مے
اصل اس کي نے نواز کا ہے کہ چوب نے
کيا ہے ، اس کي مستي و قوت کہاں سے ہے
کيوں اس کي اک نگاہ الٹتي ہے تخت کے
کيوں اس کي زندگي سے ہے اقوام ميں حيات
کيوں اس کے واردات بدلتے ہيں پے بہ پے
کيا بات ہے کہ صاحب دل کي نگاہ ميں
جچتي نہيں ہے سلطنت روم و شام و رے
جس روز دل کي رمز مغني سمجھ گيا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہيں طے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا