دريا ميں موتي ، اے موج بے باک
ساحل کي سوغات ! خاروخس و
ميرے شرر ميں بجلي کے جوہر
ليکن نيستاں تيرا ہے نم ناک
تيرا زمانہ ، تاثير تيري
ناداں ! نہيں يہ تاثير افلاک
ايسا جنوں بھي ديکھا ہے ميں نے
جس نے سيے ہيں تقدير کے چاک
کامل وہي ہے رندي کے فن ميں
مستي ہے جس کي بے منت تاک
رکھتا ہے اب تک ميخانہ شرق
وہ مے کہ جس سے روشن ہو ادراک
اہل ہيں يورپ سے نوميد
ان امتوں کے باطن نہيں پاک
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا