مہر و مہ و مشتري ، چند نفس کا فروغ
سے ہے پائدار تيري خودي کا وجود
تيرے حرم کا ضمير اسود و احمر سے پاک
ننگ ہے تيرے ليے سرخ و سپيد و کبود
تيري خودي کا غياب معرکہ ذکر و فکر
تيري خودي کا حضور عالم شعر و سرود
روح اگر ہے تري رنج غلامي سے
تيرے ہنر کا جہاں دير و طواف و سجود
اور اگر باخبر اپني شرافت سے ہو
تيري سپہ انس و جن ، تو ہے امير جنود
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا