يہ کائنات چھپاتي نہيں ضمير اپنا
کہ ذرے ذرے ميں ہے ذوق آشکارائي
کچھ اور ہي آتا ہے کاروبار جہاں
شوق اگر ہو شريک بينائي
اسي نگاہ سے محکوم قوم کے فرزند
ہوئے جہاں ميں سزاوار کار فرمائي
اسي نگاہ ميں ہے قاہري و جباري
اسي نگاہ ميں ہے دلبري و رعنائي
اسي نگاہ سے ہر ذرے کو ، جنوں ميرا
سکھا رہا ہے رہ و رسم دشت پيمائي
نگاہ شوق ميسر نہيں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کي رسوائي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا