مقابلہ تو زمانے کا کرتا ہوں
اگرچہ ميں نہ سپاہي ہوں نے امير جنود
مجھے خبر نہيں يہ شاعري ہے يا کچھ اور
عطا ہوا ہے مجھے و فکر و جذب و سرود
جبين بندہ حق ميں نمود ہے جس کي
اسي جلال سے لبريز ہے ضمير وجود
يہ کافري تو نہيں ، کافري سے کم بھي نہيں
کہ مرد حق ہو گرفتار حاضر و موجود
غميں نہ ہو کہ بہت دور ہيں ابھي باقي
نئے ستاروں سے خالي نہيں سپہر کبود
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا