ہے مرے سينہ بے ميں اب کيا باقي
'لاالہ' مردہ و افسردہ و بے ذوق نمود
چشم بھي نہ پہچان سکے گي مجھ کو
کہ ايازي سے دگرگوں ہے مقام محمود
کيوں مسلماں نہ خجل ہو تري سنگيني سے
کہ غلامي سے ہوا مثل زجاج اس کا وجود
ہے تري شان کے شاياں اسي مومن کي نماز
جس کي تکبير ميں ہو معرکہ بود و نبود
اب کہاں ميرے نفس ميں وہ حرارت ، وہ گداز
بے تب و تاب دروں ميري صلوہ اور درود
ہے مري بانگ اذاں ميں نہ بلندي ، نہ شکوہ
کيا گوارا ہے تجھے ايسے مسلماں کا سجود؟
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا