تازہ کي افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہيں جہاں پيدا
خودي ميں ڈوبنے والوں کے عزم و ہمت نے
اس آبجو سے کيے بحر بے کراں پيدا
وہي زمانے کي گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پيدا
خودي کي سے مشرق کي سر زمينوں ميں
ہوا نہ کوئي خدائي کا رازداں پيدا
ہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتي ہے
عجب نہيں ہے کہ ہوں ميرے ہم عناں پيدا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا