جوہر مرد عياں ہوتا ہے بے منت غير
غير کے ہاتھ ميں ہے جوہر عورت کي نمود
راز ہے اس کے تپ کا يہي نکتہ شوق
آتشيں ، لذت تخليق سے ہے اس کا وجود
کھلتے جاتے ہيں اسي سے اسرار حيات
گرم اسي آگ سے ہے معرکہ بود و نبود
ميں بھي مظلومي نسواں سے ہوں غم ناک بہت
!نہيں ممکن مگر اس عقدہ مشکل کي کشود
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا