غارت گر ديں ہے يہ زمانہ
ہے اس کي نہاد کافرانہ
دربار شہنشہي سے خوشتر
مردان کا آستانہ
ليکن يہ دور ساحري ہے
انداز ہيں سب کے جادوانہ
سرچشمہ زندگي ہوا خشک
!باقي ہے کہاں م ے شبانہ
خالي ان سے ہوا دبستاں
تھي جن کي تازيانہ
جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ
جوہر ميں ہو 'لاالہ' تو کيا خوف
تعليم ہو گو فرنگيانہ
شاخ گل پر چہک وليکن
!کر اپني خودي ميں آشيانہ
وہ بحر ہے آدمي کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحر بيکرانہ
دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ
غافل منشيں نہ وقت بازي ست ''
''وقت ہنر است و کارسازي ست
سينے ميں اگر نہ ہو دل گرم
رہ جاتي ہے زندگي ميں خامي
نخچير اگر ہو زيرک و چست
آتي نہيں کام کہنہ دامي
ہے آب حيات اسي جہاں ميں
شرط اس کے ليے ہے تشنہ کامي
غيرت ہے طريقت حقيقي
غيرت سے ہے فقر کي تمامي
اے جان پدر! نہيں ہے ممکن
شاہيں سے تدرو کي غلامي
ناياب نہيں متاع گفتار
!صد انوري و ہزار جامي
ہے ميري بساط کيا جہاں ميں
بس ايک فغان زير بامي
اک صدق مقال ہے کہ جس سے
ميں چشم جہاں ميں ہوں گرامي
اللہ کي دين ہے ، جسے دے
ميراث نہيں بلند نامي
اپنے نور نظر سے کيا خوب
فرماتے ہيں حضرت نظامي
جاے کہ بزرگ بايدت بود ''
''فرزندي من نداردت سود
مومن پہ گراں ہيں يہ شب و روز
!دين و دولت ، قمار بازي
ناپيد ہے بندہ عمل مست
باقي ہے فقط نفس درازي
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کي اصل ہے حجازي
اس فقر سے آدمي ميں پيدا
اللہ کي شان بے نيازي
کنجشک و حمام کے ليے موت
ہے اس کا مقام شاہبازي
روشن اس سے خرد کي آنکھيں
بے سرمہ بوعلي و رازي
حاصل اس کا شکوہ محمود
فطرت ميں اگر نہ ہو ايازي
تيري دنيا کا يہ سرافيل
رکھتا نہيں ذوق نے نوازي
ہے اس کي نگاہ عالم آشوب
درپردہ تمام کارسازي
يہ فقر غيور جس نے پايا
بے تيغ و سناں ہے مرد غازي
مومن کي اسي ميں ہے اميري
اللہ سے مانگ يہ فقيري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا