مجھ کو معلوم ہيں پيران حرم کے انداز
ہو نہ اخلاص تو دعوئے لاف و گزاف
اور يہ اہل کليسا کا نظام تعليم
ايک سازش ہے فقط دين و مروت کے خلاف
اس کي تقدير ميں محکومي و مظلومي ہے
قوم جو کر نہ سکي اپني خودي سے انصاف
افراد سے اغماض بھي کر ليتي ہے
کبھي کرتي نہيں ملت کے گناہوں کو معاف
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا