ملے گا مقصود کا اسي کو سراغ
اندھيري ميں ہے چيتے کي آنکھ جس کا چراغ
ميسر آتي ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہيں ہے بندہ حر کے ليے جہاں ميں فراغ
فروغ مغربياں خيرہ کر رہا ہے تجھے
'تري نظر کا نگہباں ہو صاحب 'مازاغ
وہ بزم عيش ہے مہمان يک نفس دو نفس
چمک رہے ہيں مثال ستارہ جس کے اياغ
کيا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھي نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا