زندگي کچھ اور شے ہے ، علم ہے کچھ اور شے
زندگي سوز جگر ہے ، علم ہے سوز دماغ
علم ميں دولت بھي ہے ، قدرت بھي ہے ، لذت بھي ہے
ايک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہيں اپنا سراغ
اہل دانش عام ہيں ، کم ياب ہيں اہل
!کيا تعجب ہے کہ خالي رہ گيا تيرا اياغ
شيخ مکتب کے طريقوں سے کشاد کہاں
!کس طرح کبريت سے روشن ہو بجلي کا چراغ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا