اقبال! يہاں نام نہ لے علم خودي کا
موزوں نہيں مکتب کے ليے ايسے مقالات
بہتر ہے کہ بيچارے ممولوں کي سے
پوشيدہ رہيں باز کے احوال و مقامات
کي اک آن ہے محکوم کا اک سال
!کس درجہ گراں سير ہيں محکوم کے اوقات
آزاد کا ہر لحظہ پيام ابديت
محکوم کا ہر لحظہ نئي مرگ مفاجات
آزاد کا انديشہ حقيقت سے منور
محکوم کا انديشہ گرفتار خرافات
محکوم کو پيروں کي کرامات کا سودا
ہے بندہ آزاد خود اک زندہ کرامات
محکوم کے حق ميں ہے يہي تربيت اچھي
!موسيقي و صورت گري و علم نباتات
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا