جس بندئہ حق بيں کي خودي ہوگئي بيدار
شمشير کي مانند ہے برندہ و براق
اس کي نگہ شوخ پہ ہوتي ہے نمودار
ہر ذرے ميں پوشيدہ ہے جو قوت اشراق
اس مرد سے کوئي نسبت نہيں تجھ کو
تو بندئہ آفاق ہے ، وہ صاحب آفاق
تجھ ميں ابھي پيدا نہيں کي طلب بھي
وہ پاکي فطرت سے ہوا محرم اعماق
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا