نہ ميں اعجمي نہ ہندي ، نہ عراقي و حجازي
کہ خودي سے ميں نے سيکھي دوجہاں سے بے نيازي
تو مري ميں کافر ، ميں تري نظر ميں کافر
ترا ديں نفس شماري ، مرا ديں نفس گدازي
تو بدل گيا تو بہتر کہ بدل گئي شريعت
کہ موافق تدرواں نہيں دين شاہبازي
ترے دشت و در ميں مجھ کو وہ جنوں نہ آيا
کہ سکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازي
نہ جدا رہے نوا گر تب و تاب زندگي سے
کہ ہلاکي امم ہے يہ طريق نے نوازي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا