ہرلحظہ ہے مومن کي نئي شان، نئي آن
!گفتار ميں، کردار ميں، اللہ کي برہان
قہاري و غفاري و قدوسي و جبروت
يہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
ہمسايہء جبريل اميں بندئہ خاکي
ہے اس کا نشيمن نہ بخارا نہ بدخشان
يہ راز کسي کو نہيں معلوم کہ مومن
!قاري آتا ہے ، حقيقت ميں ہے قرآن
قدرت کے مقاصد کا عيار اس کے ارادے
دنيا ميں بھي ميزان، قيامت ميں بھي ميزان
جس سے جگر لالہ ميں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
درياؤں کے جس سے دہل جائيں، وہ طوفان
فطرت کا سرود ازلي اس کے شب و روز
آہنگ ميں يکتا صفت سورئہ رحمن
بنتے ہيں مري کارگہ فکر ميں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا