تيري متاع حيات، علم و ہنر کا سرور
!ميري متاع حيات ايک ناصبور
معجزہ اہل فکر، فلسفہء پيچ پيچ
معجزہ اہل ذکر، موسي و فرعون و طور
مصلحتاً کہہ ديا ميں نے مسلماں تجھے
تيرے نفس ميں نہيں، گرمي يوم النشور
ايک زمانے سے ہے چاک گريباں مرا
تو ہے ابھي ہوش ميں، ميرے جنوں کا قصور
فيض کے ليے ضبط سخن چاہيے
حرف پريشاں نہ کہہ اہل نظر کے حضور
خوار جہاں ميں کبھي ہو نہيں سکتي وہ قوم
عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غيور
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا