تو نے پوچھي ہے امامت کي حقيقت مجھ سے
حق تجھے ميري طرح اسرار کرے
ہے وہي تيرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بيزار کرے
کے آئنے ميں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگي تيرے ليے اور بھي دشوار کرے
دے کے احساس زياں تيرا لہو گرما دے
فقر کي سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا