اے خدائے کن فکاں! مجھ کو نہ تھا آدم سے بير
آہ ! وہ زنداني نزديک و دور و دير و زود
حرف 'استکبار' تيرے سامنے ممکن نہ تھا
ہاں، مگر تيري مشيت ميں نہ تھا ميرا سجود
کب کھلا تجھ پر يہ راز، انکار سے پہلے کہ بعد؟
!بعد ! اے تيري تجلي سے کمالات وجود
پستي نے سکھلائي ہے يہ حجت اسے
،کہتا ہے 'تيري مشيت ميں نہ تھا ميرا سجود
دے رہا ہے اپني آزادي کو مجبوري کا نام
!ظالم اپنے سوزاں کو خود کہتا ہے دود
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا