افکار جوانوں کے خفي ہوں کہ جلي ہوں
پوشيدہ نہيں مرد قلندر کي سے
معلوم ہيں مجھ کو ترے احوال کہ ميں بھي
مدت ہوئي گزرا تھا اسي گزر سے
الفاظ کے پيچوں ميں الجھتے نہيں دانا
!غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
پيدا ہے فقط حلقہ ارباب جنوں ميں
وہ عقل کہ پا جاتي ہے شعلے کو شرر سے
جس معني پيچيدہ کي تصديق کرے دل
قيمت ميں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سے
يا مردہ ہے يا نزع کي حالت ميں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گيا خون جگر سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا