کہتا ہے زمانے سے يہ درويش جواں مرد
!جاتا ہے جدھر بندئہ حق، تو بھي ادھر جا
ہنگامے ہيں ميرے تري سے زيادہ
بچتا ہوا بنگاہ قلندر سے گزر جا
ميں کشتي و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دريا ہے اگر تو تو اتر جا
توڑا نہيں جادو مري تکبير نے تيرا؟
!ہے تجھ ميں مکر جانے کي جرات تو مکر جا
و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ايام کا مرکب نہيں، راکب ہے قلندر
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا