مردہ دل نہيں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ
کہ يہي ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
ترا بحر پر سکوں ہے، يہ سکوں ہے يا فسوں ہے؟
!نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابي کنارہ
تو ضمير آسماں سے ابھي آشنا نہيں ہے
نہيں بے قرار کرتا تجھے غمزہ ستارہ
ترے نيستاں ميں ڈالا مرے نغمہ نے
مري خاک پے سپر ميں جو نہاں تھا اک شرارہ
نظر آئے گا اسي کو يہ جہان دوش و فردا
جسے آگئي ميسر مري شوخي نظارہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا