ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو جس سے وہ الہام بھي الحاد
وحدت کي حفاظت نہيں بے قوت بازو
آتي نہيں کچھ کام يہاں عقل داد
اے مرد خدا! تجھ کو وہ قوت نہيں حاصل
جا بيٹھ کسي غار ميں اللہ کو کر ياد
مسکيني و محکومي و نوميدي جاويد
جس کا يہ تصوف ہو وہ اسلام کر ايجاد
ملا کو جو ہے ہند ميں سجدے کي اجازت
!ناداں يہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا