يہ حکمت ملکوتي، يہ علم لاہوتي
حرم کے کا درماں نہيں تو کچھ بھي نہيں
يہ ذکر نيم شبي ، يہ مراقبے ، يہ سرور
تري خودي کے نگہباں نہيں تو کچھ بھي نہيں
يہ عقل، جو مہ و پرويں کا کھيلتي ہے شکار
شريک شورش پنہاں نہيں تو کچھ بھي نہيں
خرد نے کہہ بھي ديا 'لاالہ' تو کيا حاصل
و نگاہ مسلماں نہيں تو کچھ بھي نہيں
عجب نہيں کہ پريشاں ہے گفتگو ميري
فروغ صبح پريشاں نہيں تو کچھ بھي نہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا