کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس ميں ہے بے پردہ روح قرآني
خودي کو جب آتي ہے قاہري اپني
يہي مقام ہے کہتے ہيں جس کو سلطاني
يہي مقام ہے مومن کي قوتوں کا عيار
اسي مقام سے آدم ہے ظل سبحاني
يہ جبر و قہر نہيں ہے ، يہ و مستي ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہيں جہاں باني
کيا گيا ہے غلامي ميں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکي فقر کي نگہباني
مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
خريد لي ہے فرنگي نے وہ مسلماني
ہوا حريف مہ و آفتاب تو جس سے
رہي نہ تيرے ستاروں ميں وہ درخشاني
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا