فقر جنگاہ ميں بے ساز و يراق آتا ہے
ضرب کاري ہے، اگر سينے ميں ہے قلب سليم
اس کي بڑھتي ہوئي بے باکي و بے تابي سے
تازہ ہر عہد ميں ہے قصہ فرعون و کليم
اب ترا دور بھي آنے کو ہے اے فقر غيور
کھا گئي روح فرنگي کو ہوائے زروسيم
و مستي نے کيا ضبط نفس مجھ پہ حرام
کہ گرہ غنچے کي کھلتي نہيں بے موج نسيم
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا