علم نے مجھ سے کہا ہے ديوانہ پن
نے مجھ سے کہا علم ہے تخمين و ظن
بندہ تخمين و ظن! کرم کتابي نہ بن
!عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب
عشق کي گرمي سے ہے معرکہء کائنات
علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات
عشق سکون و ثبات، عشق حيات و ممات
!علم ہے پيدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب
عشق کے ہيں معجزات سلطنت و فقر و ديں
عشق کے ادني غلام صاحب تاج و نگيں
عشق مکان و مکيں، عشق زمان و زميں
!عشق سراپا يقيں، اور يقيں فتح باب
شرع محبت ميں ہے عشرت منزل حرام
شورش طوفاں حلال، لذت ساحل حرام
عشق پہ بجلي حلال، عشق پہ حاصل حرام
!علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا