تو اپني خودي اگر نہ کھوتا
زناري برگساں نہ ہوتا
ہيگل کا صدف گہر سے خالي
ہے اس کا طلسم سب خيالي
محکم کيسے ہو زندگاني
!کس طرح خودي ہو لازماني
آدم کو ثبات کي طلب ہے
دستور حيات کي طلب ہے
دنيا کي عشا ہو جس سے اشراق
مومن کي اذاں ندائے آفاق
ميں اصل کا خاص سومناتي
آبا مرے لاتي و مناتي
تو سيد ہاشمي کي اولاد
ميري کف برہمن زاد
ہے فلسفہ ميرے آب و ميں
پوشيدہ ہے ريشہ ہائے دل ميں
اقبال اگرچہ بے ہنر ہے
اس کي رگ رگ سے باخبر ہے
شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز
سن مجھ سے يہ نکتہ دل افروز
انجام خرد ہے بے حضوري
ہے فلسفہ زندگي سے دوري
افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہيں ذوق عمل کے واسطے موت
ديں مسلک زندگي کي تقويم
ديں سر محمد و براہيم
دل در سخن محمدي بند ''
''!اے پور علي ز بو علي چند
چوں ديدہ راہ بيں نداري ''
''قايد قرشي بہ از بخاري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا