کيا ميں نے اس داں سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بياباں کي خلوت خوش آتي ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مري راہبانہ
نہ باد بہاري ، نہ گلچيں ، نہ
نہ بيماري نغمہ عاشقانہ
خيابانيوں سے ہے پرہيز لازم
ادائيں ہيں ان کي بہت دلبرانہ
ہوائے بياباں سے ہوتي ہے کاري
جواں مرد کي ضربت غازيانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہيں ميں
کہ ہے زندگي باز کي زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
يہ پورب ، يہ پچھم چکوروں کي دنيا
مرا نيلگوں آسماں بيکرانہ
پرندوں کي دنيا کا درويش ہوں ميں
کہ شاہيں بناتا نہيں آشيانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا