کہا درخت نے اک روز مرغ صحرا سے
ستم پہ کدئہ رنگ و بو کي ہے بنياد
مجھے بھي اگر بال و پر عطا کرتا
شگفتہ اور بھي ہوتا يہ عالم ايجاد
ديا جواب اسے خوب مرغ صحرا نے
!غضب ہے ، داد کو سمجھا ہوا ہے تو بيداد
جہاں ميں لذت پرواز حق نہيں اس کا
وجود جس کا نہيں جذب خاک سے آزاد
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا