حاضر ہوا ميں شيخ مجدد کي لحد پر
وہ کہ ہے زير فلک مطلع انوار
اس کے ذروں سے ہيں شرمندہ ستارے
اس خاک ميں پوشيدہ ہے وہ صاحب اسرار
گردن نہ جھکي جس کي جہانگير کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمي احرار
وہ ہند ميں سرمايہء ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کيا جس کو خبردار
کي عرض يہ ميں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو
!آنکھيں مري بينا ہيں ، و ليکن نہيں بيدار
آئي يہ صدا سلسلہء فقر ہوا بند
ہيں اہل نظر کشور پنجاب سے بيزار
عارف کا ٹھکانا نہيں وہ خطہ کہ جس ميں
پيدا کلہ فقر سے ہو طرئہ دستار
باقي کلہ فقر سے تھا ولولہء حق
!'طروں نے چڑھايا نشہء 'خدمت سرکار
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا