کہتے ہيں کبھي گوشت نہ کھاتا تھا معري
پھل پہ کرتا تھا ہميشہ گزر اوقات
اک دوست نے بھونا ہوا تيتر اسے بھيجا
شايد کہ وہ شاطر اسي ترکيب سے ہو مات
يہ خوان تر و تازہ معري نے جو ديکھا
کہنے لگا وہ صاحب غفران و لزومات
اے مرغک بيچارہ! ذرا يہ تو بتا تو
تيرا وہ گنہ کيا تھا يہ ہے جس کي مکافات؟
افسوس ، صد افسوس کہ شاہيں نہ بنا تو
ديکھے نہ تري آنکھ نے کے اشارات
تقدير کے قاضي کا يہ فتوي ہے ازل سے
!ہے جرم ضعيفي کي سزا مرگ مفاجات
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا