کہيں سجادہ و عمامہ رہزن
!کہيں ترسا بچوں کي چشم بے باک
ردائے دين و ملت پارہ پارہ
!قبائے ملک و دولت چاک در چاک
مرا ايماں تو ہے باقي وليکن
!نہ کھا جائے کہيں شعلے کو خاشاک
ہوائے تند کي موجوں ميں محصور
!سمرقند و بخارا کي کف
بگرداگرد خود چندانکہ بينم '
'بلا انگشتري و من نگينم
يکايک ہل گئي سمرقند
اٹھا تيمور کي تربت سے اک نور
شفق آميز تھي اس کي سفيدي
صدا آئي کہ ''ميں ہوں روح تيمور
اگر محصور ہيں مردان تاتار
نہيں اللہ کي تقدير محصور
تقاضا زندگي کا کيا يہي ہے
کہ توراني ہو توراني سے مہجور؟
خودي را سوز و تابے ديگرے دہ ''
''جہاں را انقلابے ديگرے دہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا