ندرت فکر و عمل کيا شے ہے ، ذوق انقلاب
ندرت فکر و عمل کيا شے ہے ، ملت کا شباب
ندرت فکر و عمل سے معجزات زندگي
ندرت فکر و عمل سے سنگ خارا لعل ناب
رومتہ الکبرے! دگرگوں ہوگيا تيرا ضمير
!اينکہ مي بينم بہ بيدار يست يارب يا بہ خواب
چشم پيران کہن ميں زندگاني کا فروغ
نوجواں تيرے ہيں سوز آرزو سے سينہ تاب
يہ محبت کي حرارت ، يہ تمنا ، يہ نمود
فصل ميں پھول رہ سکتے نہيں زير حجاب
نغمہ ہائے شوق سے تيري فضا معمور ہے
زخمہ ور کا منتظر تھا تيري فطرت کا رباب
فيض يہ کس کي کا ہے ، کرامت کس کي ہے؟
!وہ کہ ہے حس کي نگہ مثل شعاع آفتاب
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا