راز ہے ، راز ہے تقدير تگ و تاز
جوش کردار سے کھل جاتے ہيں تقدير کے راز
جوش کردار سے شمشير سکندر کا طلوع
کوہ الوند ہوا جس کي حرارت سے گداز
جوش کردار سے تيمور کا سيل ہمہ گير
سيل کے سامنے کيا شے ہے نشيب اور فراز
صف جنگاہ ميں مردان کي تکبير
جوش کردار سے بنتي ہے خدا کي آواز
ہے مگر فرصت کردار نفس يا دو نفس
!عوض يک دو نفس قبر کي شب ہائے دراز
عاقبت منزل ما وادي خاموشان است ''
''!حاليا غلغلہ در گنبد افلاک انداز
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا