!يہ آفتاب کيا ، يہ سپہر بريں ہے کيا
سمجھ نہيں تسلسل شام و کو ميں
اپنے وطن ميں ہوں کہ غريب الديار ہوں
ڈرت ہوں ديکھ ديکھ کے اس دشت و در کو ميں
کھلت نہيں مرے زندگي کا راز
لاؤں کہاں سے بندئہ صاحب نظر کو ميں
حيراں ہے بوعلي کہ ميں آيا کہاں سے ہوں
رومي يہ سوچتا ہے کہ جاؤں کدھر کو ميں
جات ہوں تھوڑي دور ہر اک راہرو کے ساتھ ''
''پہچانت نہيں ہوں ابھي راہبر کو ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا