ہمدم ديرينہ! کيسا ہے رنگ و بو؟
سوز و ساز و و داغ و جستجوے و آرزو
ہر گھڑي افلاک پر رہتي ہے تيري گفتگو
کيا نہيں ممکن کہ تيرا چاک دامن ہو رفو؟
آہ اے جبريل! تو واقف نہيں اس راز سے
کر گيا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر ميرا سبو
اب يہاں ميري گزر ممکن نہيں ، ممکن نہيں
!کس قدر خاموش ہے يہ عالم بے کاخ و کو
جس کي نوميدي سے ہو سوز درون کائنات
اس کے حق ميں 'تقنطوا' اچھا ہے يا 'لاتقظوا'؟
کھو ديے انکار سے تو نے مقامات بلند
!چشم يزداں ميں فرشتوں کي رہي کيا آبرو
ہے مري جرأت سے مشت خاک ميں ذوق نمو
ميرے فتنے جامہء عقل و خرد کا تاروپو
ديکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خير و شر
کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے ، ميں کہ تو؟
خضر بھي بے دست و پا ، الياس بھي بے دست و پا
ميرے طوفاں يم بہ يم ، دريا بہ دريا ، جو بہ جو
گر کبھي خلوت ميسر ہو تو پوچھ اللہ سے
!قصہء آدم کو رنگيں کر گيا کس کا لہو
ميں کھٹکتا ہوں دل يزداں ميں کانٹے کي طرح
تو فقط اللہ ھو ، اللہ ھو ، اللہ ھو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا