جو تھا نہيں ہے ، جو ہے نہ ہو گا ، يہي ہے اک حرف محرمانہ
قريب تر ہے نمود جس کي ، اسي کا مشتاق ہے زمانہ
مري صراحي سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہيں
ميں اپني تسبيح روز و کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ
ہر ايک سے آشنا ہوں ، ليکن جدا جدا رسم و ميري
کسي کا راکب ، کسي کا مرکب ، کسي کو عبرت کا تازيانہ
نہ تھا اگر تو شريک محفل ، قصور ميرا ہے يا کہ تيرا
مرا طريقہ نہيں کہ رکھ لوں کسي کي خاطر مےء شبانہ
مرے خم و پيچ کو نجومي کي آنکھ پہچانتي نہيں ہے
ہدف سے بيگانہ تيرا اس کا ، نظر نہيں جس کي عارفانہ
!شفق نہيں مغربي افق پر يہ جوئے خوں ہے ، يہ جوئے خوں ہے
طلوع فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ
وہ فکر گستاخ جس نے عرياں کيا ہے فطرت کي طاقتوں کو
اس کي بيتاب بجليوں سے خطر ميں ہے اس کا آشيانہ
ہوائيں ان کي ، فضائيں ان کي ، سمندر ان کے ، جہاز ان کے
گرہ بھنور کي کھلے تو کيونکر ، بھنور ہے تقدير کا بہانہ
جہان نو ہو رہا ہے پيدا ، وہ عالم پير مر رہا ہے
جسے فرنگي مقامروں نے بنا ديا ہے قمار خانہ
ہوا ہے گو تند و تيز ليکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد درويش جس کو حق نے ديے ہيں انداز خسروانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا