يہ گنبد مينائي ، يہ عالم تنہائي
مجھ کو تو ڈراتي ہے اس دشت کي پہنائي
بھٹکا ہوا راہي ميں ، بھٹکا ہوا راہي تو
!منزل ہے کہاں تيري اے لالہء صحرائي
خالي ہے کليموں سے يہ کوہ و کمر ورنہ
!تو شعلہء سينائي ، ميں شعلہء سينائي
تو شاخ سے کيوں پھوٹا ، ميں شاخ سے کيوں ٹوٹا
!اک جذبہء پيدائي ، اک لذت يکتائي
غواص محبت کا اللہ نگہباں ہو
ہر قطرئہ دريا ميں دريا کي ہے گہرائي
اس موج کے ماتم ميں روتي ہے بھنور کي آنکھ
دريا سے اٹھي ليکن سے نہ ٹکرائي
ہے گرمي آدم سے ہنگامہء عالم گرم
سورج بھي تماشائي ، تارے بھي تماشائي
اے باد بياباني! مجھ کو بھي عنايت ہو
!خاموشي و سوزي ، سرمستي و رعنائي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا