ترے صوفے ہيں افرنگي ، ترے قاليں ہيں ايراني
لہو مجھ کو رلاتي ہے جوانوں کي تن آساني
امارت کيا ، شکوہ خسروي بھي ہو تو کيا حاصل
نہ زور حيدري تجھ ميں ، نہ استغنائے سلماني
نہ ڈھونڈ اس چيز کو تہذيب حاضر کي تجلي ميں
کہ پايا ميں نے استغنا ميں معراج مسلماني
عقابي روح جب بيدار ہوتي ہے جوانوں ميں
نظر آتي ہے اس کو اپني آسمانوں ميں
نہ ہو نوميد ، نوميدي زوال علم و عرفاں ہے
اميد مرد مومن ہے کے راز دانوں ميں
نہيں تيرا نشيمن قصر سلطاني کے گنبد پر
تو شاہيں ہے ، بسيرا کر پہاڑوں کي چٹانوں ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا